گمبٹ میں 15 اپریل 2020 کو بھائی اور بھتیجوں نے مل کر جائیداد ہتھیانے کے لیے معمر شخص (تایا) کو قتل کر دیا، مقتول کی بیٹی شہناز لاشاری کا کہنا ہے کہ ان کے والد پر کلہاڑیوں سے حملہ کیا گیا اور بھر زندہ جلایا گیا۔ شہناز لاشاری کا کہنا ہے کہ ان کے والد گمبٹ سے واپس اپنے گاؤں آ رہے تھے کہ 9 افراد نے ان کو روکا ڈنڈوں سے حملہ کیا اور رسیوں سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا مقتول کے 5دن زندہ رہنے کے بعد حملہ آوروں نے مقتول پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ شہناز کا کہنا ہے کہ اس سارے واقعہ کی ذمہ دار سندھ پولیس ہے کیونکہ اس قتل سے ایک مہینہ پہلے اسی چچا اور اس کے بیٹوں نے ان کے گھر پر قبضہ کرنے کے لیے حملہ کیا اور فائرنگ کی جب کھوڑا پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او عبدالرزاق تھیبو کو اس حملے سے متعلق بتایا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ کا زیادہ نقصان نہیں ہوا اس لیے مقدمہ درج نہیں ہو سکتا۔ شہناز لاشاری کا کہنا ہے کہ قاتلوں کا حوصلہ اسی لیے بلند ہوا کیونکہ وہ پولیس کا رویہ دیکھ چکے تھے وہ جانتے تھے کہ پولیس ان کا ساتھ نہیں دے گی۔ شہناز کے مطابق سوشل میڈیا پر معاملہ اٹھائے جانے کے بعد ملزموں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ مگر پولیس نے ملزموں کو گرفتار نہیں کیا، شہناز کے مطابق ملزم اب بھی ان کے گھر کے باہر آ کر دھمکیاں دیتے اور گالم گلوچ کرتے ہیں۔ وہ جب پیشی سے واپس آتی ہیں تو ملزم راستے میں روک کے کیس سے علیحدگی کیلئے دباؤ ڈالتے ہیں۔ شہناز نے ملزموں کی گرفتاری کیلئے آئی جی سندھ سے اپیل کی ہے کہ ان کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے ان کی مدد کی جائے ۔ شہناز لاشاری نے چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ان کو انصاف فراہم کیا جائے۔