کورونا وائرس سے متعلق از خود نوٹس کیس میں وزارت قومی صحت نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہے۔ وزارت قومی صحت کی رپورٹ کے مطابق ملک سے 2 کروڑ ماسک اسمگل کرنے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 35 لاکھ ماسک چین کی حکومت کی درخواست پر 5 چینی کمپنیوں کو ایکسپورٹ کیے گئے اور اِس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کررہا ہے، ملک میں فیس ماسک کی کمی نہیں ہے۔ وزارت قومی صحت کی رپورٹ میں کہا گیا کہ این آئی ایچ میں کورونا وائرس کے مریضوں اور ان کے رابطہ داروں کے ٹیسٹس مفت کیے جا رہے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ڈریپ کی سفارش پر پروٹو ٹائپ وینٹیلیٹرز مقامی سطح پر بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ وزارت قومی صحت کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہم اپریل کے آخر تک 20 ہزار ٹیسٹ کرنے کے اہل ہو جائیں گے اور گزشتہ 24 گھنٹے میں 6416 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پی پی ایز کی قیمت مستحکم رکھنے کے لیے ملک میں 100 سے زائد چھاپے مارے گئے جبکہ اسپیشل ڈیوٹی کے دوران شہید ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف کے لیے خصوصی پیکج تیاری کے مراحل میں ہے۔ وزارت قومی صحت کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 100 ائسنس ہولڈرز کو ڈبلیو ایچ او کے اسٹینڈرڈ کے مطابق 300 اقسام کےسینیٹائزر بنانے کی اجازت دی ہے۔