تازہ ترین

وفاق کا حکومت سندھ کی درخواست پر آئی جی سندھ کو فوری ہٹانے سے انکار

وفاق-کا-حکومت-سندھ-کی-درخواست-پر-آئی-جی-سندھ-کو-فوری-ہٹانے-سے-انکار

وفاقی حکومت نے حکومت سندھ کی درخواست پر آئی جی سندھ کو فوری ہٹانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی درخواست زیر غور ہے جس پر کسی فیصلے تک کلیم امام ہی آئی جی سندھ رہیں گے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیر اعظم عمران خان کو خط تحریر کیا تھا جس میں آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام کو ہٹانے کی درخواست کی گئی تھی ور اس سلسلے میں نئے آئی جی کے لیے تین نام تجویز کیے گئے تھے۔آج وزیر اعظم عمران خان کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے اس خط کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت کی درخواست پر غور کیا جا رہا ہے۔حکومت کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا کہ ماہرین اس درخواست کا جائزہ لے رہے ہیں اور درخواست پر فیصلہ ہوتے ہی آگاہ کردیا جائے گا۔وفاقی حکومت کی جانب سے ہدایت کی گئی کہ فیصلہ ہونے تک کلیم امام ہی آئی جی سندھ رہیں گے اور قانون کے تحت کسی بھی ایڈیشنل آئی جی کو آئی جی کا اضافی چارج نہیں سونپا جائے گا۔ واضح رہے کہ آئی جی سندھ کلیم امام کے معاملے پر وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تناؤ جاری ہے اور آئی جی سندھ پر اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے سندھ کابینہ نے انہیں عہدے سے ہٹانے اور ان کی خدمات وفاق کو واپس دینے کی منظوری دے دی تھی۔صوبائی حکومت کی جانب سے آئی جی سندھ پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان کے دور میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی اور ساتھ ساتھ سندھ پولیس کے سربراہ پر حکومت کے احکامات نہ ماننے کا بھی الزام لگایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ایک آفیشل نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیر اعظم کو جمعرات کی شام ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے آئی جی سندھ کے لیے غلام قادر تھیبو، مشتاق احمد مہر اور ڈاکٹر کامران کے نام تجویز کیے تھے۔ 21ویں گریڈ کے افسر غلام قادر تھیبو کراچی پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ ڈاکٹر کامران فضل بھی 21ویں گریڈ کے افسر ہیں جو اس وقت ایڈیشنل آئی جی کی حیثیت سے محکمہ انسداد دہشت گردی کی سربراہی کر رہے ہیں۔22ویں گریڈ کے افسر مشتاق مہر بھی کراچی پولیس کے سربراہ رہ چکے ہیں اور اس وقت آئی جی ریلوے پولیس ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ غلام قادر تھیبو سندھ حکومت کے پسندیدہ امیدوار ہیں لیکن 6ماہ میں ان کی ریٹائرمنٹ متوقع ہے۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں