پاراچنار میں مبینہ پولیس تشدد سے بیس سالہ قیدی اسد علی دم توڑ گیا، جس کیخلاف ورثاء سراپا احتجاج ہیں، ورثاء نے ایف آئی آر درج نہ کرنے اور مبینہ قتل کے خلاف لاش پریس کلب کے سامنے رکھ کر دھرنا دے دیا۔ زیڑان یوسف خیل سے تعلق رکھنے والے صفدر علی نے پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنے سے خطاب میں بیٹے کی ہلاکت کی مذمت کی، ان کا کہنا تھا کہ ان کے نوجوان بیٹے اسد علی کو پولیس نے جعلی کرنسی کیس میں پکڑا اور تشدد کا نشانہ بنایا،زخمی قیدی کا پشاور اور پاراچنار میں علاج کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ https://youtu.be/uAeSAirfb8Q ورثا نے بتایا کہ مرحوم اسد علی ٹیکسی ڈرائیور تھا،پولیس اہلکاروں نے انہیں جعلی کرنسی کیس میں گرفتار کیا اور زندگی چھین لی۔ورثا نے مطالبہ کیا کہ اسد علی کی ہلاکت میں ملوث اہلکاروں کو معطل کرکے سزا دی جائے اور انہیں انصاف فراہم کی جائے۔ تشدد سے ہلاکت اور ایف آئی آر درج نہ کرنے کے خلاف رشتہ داروں نے بھی احتجاج کیا، رشتہ داروں نے موقف اپنایا کہ جیل میں اسد علی پربد ترین تشدد کیا گیا جس سے اس کی حالت بگڑ گئی جنہیں فوری طور اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں پر وہ جانبر نہ ہوسکا۔ ڈسٹرکٹ پولیس افیسر ضلع کرم محمد قریش نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے اسد علی کو گرفتار کرنے کے بعد جیل بھیج دیا تھا اور جیل میں بیمار ہونے پر انہیں بار بار مختلف اسپتالوں سے علاج کیلئے بھیجا گیا لیکن اسد علی اسپتال میں دم توڑ گیا۔