کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں بھارتی مظالم کے خلاف اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے یوم سیاہ منایا گیا۔مقبوضہ کشمیرکے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ملک بھر میں ریلیوں اور سیمینارز کے انعقاد سمیت متعدد پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ بیرون ملک پاکستانی مشنوں کو بھی ہدایت کی گئی کہ وہ اس دن کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے پروگرام منعقد کریں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، مقامی ارکان پارلیمنٹ، تھنک ٹینکس اور دوسری شخصیات کو ان پروگراموں میں مدعو کیا جائے۔آزاد کشمیر میں کشمیر لبریشن سیل، حریت اور مذہبی تنظیموں کے زیر اہتمام ریاست کے تمام چھوٹے اور بڑے شہروں میں ریلیاں احتجاج اور مظاہرے کیے گئے۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کی ہدایت پر اضلاع اور تحصیل انتظامیہ کی طرف سے یوم سیاہ منانے کیلئے تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ یوم سیاہ کے حوالے سے بڑی تقریب دارالحکومت مظفرآباد میں منعقد کی گئی۔ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے تقریب کی صدارت کی۔ جبکہ تقریب کے اختتام پر ایک ریلی بھی نکالی گئی۔ادھر مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ کے سلسلے میں مکمل ہڑتال کی گئی جہاں پہلے ہی گزشتہ تراسی روز سے مکمل ہڑتال ہے۔ سید علی گیلانی کی سربراہی میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے ایک بیان میں مقبوضہ کشمیر کے عوام سے کہا کہ وہ آج سری نگر کے لال چوک کی جانب مارچ کریں اور وہاں دھرنا دیں تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جاسکے کہ کشمیریوں کو اپنی بقا کیلئے ٹیلی مواصلات کے ذرائع کی ضرورت نہیں ہے۔