کانفرنس کے انعقاد سے زراعت کے بارے بہتر پالیسی بنانے میں مدد ملے گی ،خطاب موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کاوشیں وقت کی ضرورت ہیں ملتان: ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں عالمی ادارہ برائے خو راک و زراعت اورشعبہ ایگرانومی کے زیر اہتمام موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زراعت کو پہنچنے والے متوقع نقصانات کو کم کرنے کے حوالے سے دو روزہ انٹر نیشنل کانفرنس آن کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر کا انعقاد کیا گیا ، کانفرنس کے پہلے روز پاکستان کے علاوہ پانچ مختلف ممالک کے 10سائنسدانوں نے شرکت کی ،کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ایگریکلچر سمیراصمدنے کہاکہ پاکستان کے شعبہ زراعت کو مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہے ،اس طرح کی کانفرنس کے انعقاد سے بلکہ زراعت کے بارے میں بہتر پالیسی بنانے میں مدد ملے گی ۔ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہاکہ جا معہ زرعی ملتان کی پہلے دن سے ہی موسمیاتی تبدیلیوں اور اس کے اثرات پر نظر ہے ۔نمائندہ عالمی ادارہ برائے خوارک و زراعت مینا دولت نے کہاکہ کانفرنس سے شعبہ زراعت میں مثبت اثرات نظر آئیں گے ۔ کلائمیٹ چینج کے حوالے سے کی جانے والی کاوشیں وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ انٹر نیشنل کانفرنس سے یونیورسٹی آف منیسوٹا امریکہ کے ڈاکٹر جاوید جے ملا ،لینڈ اینڈ واٹر آفس ایف اے او اٹلی کی ڈاکٹر روبینہ وہاج، سینئر افسر ایف اے او نیدرلینڈ جیپی ہیگون، یونیورسٹی آف کوپن ہانگن ڈ نمارک کے ڈاکٹر گبریلا الینڈا ، پالیسی ا فسر ایف اے او آسٹریلیا ڈاکٹر گینویو حسین اور ڈاکٹر عبدالغفار نے بھی خطاب کیا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کی جانے والی اپنی تحقیق کے حوالے سے آگاہ کیا