پاکستان کے نامور اداکار گوہر رشید کا ماننا ہے کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں اگر کوئی اداکار ٹیلی ویژن اور فلم کے بعد تھیٹر کرنے کا انتخاب کرے تو یہ اس کے کیریئر کا غلط فیصلہ ہوتا ہے۔گوہر رشید جنہوں نے اپنے کیریئر میں تھیٹر، ٹی وی اور سینما تینوں ہی میں کام کیا، ڈان کو ٹیلی فون کے ذریعے ایک انٹرویو میں اپنے کیریئر کے حوالے سے بات کی۔گوہر رشید کے مطابق انہیں آج بھی یقین نہیں آتا کہ وہ شوبز انڈسٹری میں اداکار کے طور پر شمار کیے جارہے ہیں کیوں کہ انہیں اپنی زندگی میں لکس پر کئی بار تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اداکار کا کہنا تھا کہ ’میں انڈسٹری میں کیوں آیا اس سوال کا جواب تو مجھے بھی نہیں معلوم اور کیسے آیا تو یہ بس اللہ کی مہربانی ہے‘۔انہوں نے بتایا کہ ’میرے والد کہتے تھے میں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا حصہ نہیں بن سکوں گا، پاکستان آنے کے بعد جب میں ہدایتکاروں سے ملتا تو ہر کوئی مجھ سے پوچھتا کیا میں نے پہلے اداکاری کی ہے جس پر میں صرف اپنی ڈگری ہی دکھا سکتا ہے، لوگ کہتے تھے میرے چہرے پر نشان ہیں، تو مجھے شاید صرف چھوٹے موٹے کردار ہی مل سکیں گے‘۔گوہر کا کہنا تھا کہ 2011 میں انہیں اسٹائل 360 نامی چینل سے کال آئی جو اس وقت ونیزہ احمد چلا رہی تھیں، انہیں نے گوہر کو لائن پروڈیوسر کی نوکری آفر کی، جس کے بعد دیگر مواقوں میں بھی ان کی مدد کی۔ https://youtu.be/BBS_joev2gA اداکار نے بتایا کہ ان کے لیے چیزیں اس وقت تبدیل ہوئیں جب انہیں 2014 کے کامیاب ڈرامے ’ڈائجیسٹ رائٹر‘ میں مرکزی کردار نبھانے کی آفر ملی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ گوہر رشید نے شروعات میں اس ڈرامے میں کام کرنے سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد صبا قمر نے ان سے کہا تھا کہ انہیں یہ ڈراما ضرور کرنا چاہیے کیوں کہ لوگ انہیں ان کے کردار ’شوکت‘ سے یاد رکھیں گے۔گوہر نے بتایا کہ بعدازاں ڈراموں میں ایک جیسے کردار ملنے پر انہیں نے تھیٹر کی جانب لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ اداکار نے کہا کہ ’میں واپس تھیٹر کی جانب چلا گیا، انڈسٹری کی رائے میں اسے کیریئر کی خودکشی کہا جاتا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ہولی وڈ میں تو بڑے بڑے اداکار فلموں کے ساتھ ساتھ تھیٹر شوز بھی کرتے ہیں تاہم پاکستان میں ٹی وی کے بعد تھیٹر ناکامی سمجھا جاتا ہے۔ https://youtu.be/TUflLcckrJI