راولپنڈی : پاک آرمی نے کورونا ڈیوٹی پر آئی ایس الاؤنس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ فیصلے کا مقصد حکومت رقم کورونامتاثرہ افراد پر خرچ کر سکے،اگلے15 دن اہم ہیں ،گھروں کوعبادت گاہیں بنائیں اور احتیاط کریں ۔ تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایل اوسی پر بھارتی جارحیت کے حقائق سامنے رکھنا چاہتاہوں، ماہ رمضان ہمیں صبر شکر اور برداشت کا درس دیتاہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی زیرصدارت آج جی ایچ کیو میں اسپیشل کانفرنس ہوئی ، جس میں کورونا وائرس کے تدارک کیلئے اقدامات کا جائزہ لیاگیا اور مستقبل میں کوروناسے نمٹنےکیلئے اقدامات بھی زیرغور آئے۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ سیکیورٹی ٹاسک سےمتعلق اقدامات کا تسلسل جاری رکھا جائے گا اور فوج کی روٹین اور ٹریننگ بھی جہاں تک ممکن ہو جاری رکھی جائے گی۔ ایل اوسی پر بھارتی جارحیت ان کا کہنا تھا کہ ایل اوسی پر بھارتی جارحیت میں کچھ عرصے میں خاطرخواہ اضافہ ہوا، بھارت نےجان بوجھ پر ایل اوسی پرآزادکشمیر کے پرامن شہریوں کونشانہ بنایاگیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آرمی چیف کی زیرصدارت آج جی ایچ کیو میں اسپیشل کانفرنس ہوئی ،ڈ کانفرنس کے شرکا نے ایل او سی پر جارحیت اور بیانات کا نوٹس لیا،بھارت نے کورونا کی ابتدا سے ابتک بھارت 406بارایل اوسی خلاف ورزیاں کیں اور بھارتی فوج نے میڈیا کااستعمال کرکےجھوٹے پروپیگنڈا کیا۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بدقسمتی سے آرایس ایس قوانین نے تمام قوانین کو پامال کیا، آرایس ایس نے ثابت کیا ہندو توا دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، موجودہ صورت حال میں بھی ایل اوسی پر بھارتی جارحیت کے واقعات زیر غور آئے، اقوام متحدہ نے ہر قسم کی بین الاقوامی جنگ بندی کی اپیل کی ہے، ہندوستان ہندو توا کو فروغ دے رہا ہے۔