تازہ ترین

پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

پرویز-مشرف-کے-خلاف-آئین-شکنی-کیس-کا-تفصیلی-فیصلہ-جاری

اسلام آباد: سابق صدر و آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں قائم خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کےخلاف آئین شکنی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ خصوصی عدالت کا تفصیلی فیصلہ 169 صفحات پر مشتمل ہے۔عدالت کی جانب سے پرویز مشرف اور وزارت داخلہ کے نمائندوں کو فیصلے کی کاپی فراہم کردی گئی ہے۔ دونوں نمائندے تفصیلی فیصلے کی کاپی لے کر خصوصی عدالت سے روانہ ہوگئے ہیں۔ پرویز مشرف کو سزا سنانے والے خصوصی عدالت کا بینچ جسٹس وقار سیٹھ، جسٹس نذر اکبر اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل تھا۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے فیصلے پر رد عمل میں کہا ہے کہ مجھے ان لوگوں نے ٹارگٹ کیا جو اونچے عہدوں پر فائز اور اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد پرویز مشرف نے خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو مشکوک سمجھتا ہوں، ایسے فیصلے کی مثال نہیں ملتی جہاں دفاع کا موقع نہیں دیا گیا، کیس میں قانون کی بالا دستی کا خیال نہیں رکھا گیا۔ پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ وہ جج جنھوں نے میرے زمانے میں فوائد اٹھائے وہ کیسے میرے خلاف فیصلے دے سکتے ہیں، اس کیس کو سننا ضروری نہیں تھا، اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد کروں گا، پاکستانی عوام اور فورسز کا شکر گزار ہوں، جنھوں نے مجھے یاد رکھا، یہ میرے لیے تمغا ہے اسے قبر میں لے کر جاؤں گا۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں