تازہ ترین

پولش انجینئر کو ذبح کرنے والے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 2 اراکین گرفتار

پولش-انجینئر-کو-ذبح-کرنے-والے-کالعدم-تحریک-طالبان-پاکستان-کے-2-اراکین-گرفتار

لاہور: انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) اور محکمہ انسداد دہشت گردی پنجاب (سی ٹی ڈی) نے راولپنڈی میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 2 اراکین کو گرفتار کرلیا جنہوں نے 2009 میں ایک پولش انجینئر کو ذبح کیا تھا۔ انجینئر پائیٹر استانکزیک کو راولپنڈی کے نزیک اٹک سے ستمبر 2008 کو اغواکیا گیا تھا کہ جس کا مقدمہ نامعلوم اغوا کاروں کے خلاف بسال پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ سی ٹی ڈی پنجاب اور ملک کی اعلیٰ ایجنسی نے کلیم اللہ اور فرید خان کو یکم جون کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب انہیں ان افراد کی ایک دہشت گردانہ کارروائی کے لیے راولپنڈی آمد کی انٹیلیجنس رپورٹ موصول ہوئی تھی۔ اس بریک تھرو کے بعد پولش انجینیئر کے اغوا کے بعد قتل کا مقدمہ اندراج کے 12 سال بعد تفتیش کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا۔ چھاپہ مار ٹیم نے ملزمان سے دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا اور ان کے خلاف دھماکا خیز مواد رکھنے کی دفعات کے تحت مقدمہ بھی درج کرلیا گیا۔ اس پیش رفت سے باخبر ایک عہدیدار نے بتایا کہ فروری 2009 میں 7 منٹ کی خوفناک ویڈیو میں نامعلوم ملزمان کو پولش انجینئر کا گلا کاٹتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مبینہ دہشت گردوں نے پائیٹر استانکزیک کو 4 ماہ سے زائد عرصے تک قید رکھا۔ ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ زمین پر بیٹھے انجینئر کو 2 نقاب پوش آدمیوں نے (آف کیمرہ) گرایا اور ایک عسکریت پسند نے اسے باتوں میں مشغول کیا اور دیگر 3 نے ان کا سر قلم کردیا۔ بعدازاں ان میں سے ایک نے اپنا ویڈیو بیان ریکارڈ کیا کہ پولش انجینئر کوطالبان قیدیوں کو رہا نہ کرنے کے سبب قتل کیا گیا۔ عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ ’تفتیش کے دوران کلیم اللہ نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے پولش انجینیئر کے ذبح میں حصہ لیا تھا اور فرید خان نے بتایا تھا کہ اغوا کے بعد انہیں درہ آدم خیل میں 15 روز قید رکھا گیا تھا۔ بعدازاں انجینئر کو جنوبی وزیرستان منتقل کردیا گیا تھا جہاں 7 فروری 2009 کو انہیں ذبح کردیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں