تازہ ترین

پٹرول بحران کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا،عمران خان

پٹرول-بحران-کسی-صورت-برداشت-نہیں-کیا-جائے-گا،عمران-خان

پٹرول بحران کی انکوائری رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہے۔رپورٹ میں 9آئل مارکیٹنگ کمپنیز کو بحران کا ذمہ دارقرارديا گيا ہے۔ ڈی جی آئل کی سربراہی ميں 8 رکنی کميٹی کی انکوائری رپورٹ وزيراعظم کو پیش کردی گئی ہے۔رپورٹ میں ذمہ داروں کا تعین بھی کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ پٹرول بحران کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا،مستقبل میں مصنوعی بحران پیدا نہ ہوں ،اس حوالے سے اقدامات کیے جائیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا ہے کہ تمام آئل کمپنیوں کو پٹرول کی فراہمی یقینی بنانے کاپا بند کیا جائے اور ذخیرہ اندوزں کیخلاف کارروائی کی جائے۔پٹرولیم ڈویژن حکام کا کہنا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیز نے جان بوجھ کرپٹرول بحران پیدا کیا،مصنوعی بحران کا مقصد حکومت کو دباؤ میں لا کر قیمتوں میں اضافہ کرنا تھا۔ رپورٹ میں درج ہے کہ پٹرول موجود ہونے کے باوجود پٹرول کی سپلائی انتہائی محدود کی گئی۔کمیٹی نے پٹرول بحران پیدا کرنے والی کمپنیز کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کردی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان حکومت نے یکم جون سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی تھی، جس کے بعد ملک بھر میں پیٹرول و ڈیزل کی مصنوعی قلت پیدا کردی گئی، ملک کے تقریباً ہر چھوٹے بڑے شہر میں اکثرپیٹرول پمپس بند ہونے سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کی ذمہ دار آئل کمپنیوں کیخلاف ایکشن لیتے ہوئے قوانین کی خلاف ورزی پر 6 بڑی آئل کمپنیوں پر 50 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک جرمانے عائد کئے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جن کمپنیوں پر جرمانے عائد کئے گئے ان میں شیل پاکستان، پوما انرجی، اٹک پیٹرولیم، ہیسکول پیٹرولیم، ٹوٹل پارکو پاکستان اور گیس اینڈ آئل لمیٹڈ شامل ہیں۔ اوگرا کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں تیل کی سپلائی نہیں کررہی تھیں، جس کے باعث ان پر جرمانے عائد کئے گئے، جرمانے کی رقم 30 روز کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں