کراچی : پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ عوام کو نہیں پہنچایا گیا، وفاقی وزیر برائے ایوی ایشن غلام سرور خان نے کہا کہ بیرون ملک پھنسے دو ہزار پاکستانیوں کو واپس لانے کے بعد ڈومیسٹک آپریشن شروع کرنے کا سوچا جائے گا،وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ کورونا کے ٹیسٹوں کی رفتار بھی بڑھ گئی ہے اس لئے بھی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔سابق وزیرخزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ دنیا بھر کی معیشتیں بحران کا شکار ہورہی ہیں، عالمی معاشی حالات کی وجہ سے پاکستان کی ایکسپورٹ انڈسٹری بری طرح متاثر ہورہی ہے، مقامی طور پر پروڈکشن میں کمی کی وجہ سے نجی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہوگی اور بیروزگاری میں اضافہ ہوگا، اس صورتحال میں شرح نمو چھ سے سات فیصد منفی جاسکتی ہے، ایکسپورٹ چالیس سے پچاس فیصد کم ہونے کا خطرہ ہے، کورونا وبا عروج پر پہنچے گا تو شرح نمومیں زیادہ کمی آئے گی۔ حفیظ پاشا کا کہنا تھا کہ حکومت کا غریبوں کیلئے ریلیف پیکیج ناکافی ہے، چھ افراد کے گھر کے کھانے پینے کا کم از کم خرچہ بھی آٹھ سے نو ہزار روپے ہوتا ہے، راشن کیلئے حکومت کی اعلان کردہ تین ہزار روپے کی رقم بہت کم ہے، اگر یہی صورتحال چلتی رہی تو فاقوں کی نوبت آسکتی ہے، حکومت نے ہاٹ منی پر انحصار کیا ہوا تھا بڑا جھٹکا لگتے ہی ساڑھے تین ارب ڈالر میں سے دو ارب ڈالر ملک سے نکل گئے ہیں، روپے کی قدر میں سات آٹھ فیصد کمی آئی مگر تیل کی قیمتوں میں پچاس سے ساٹھ فیصد کمی آئی ہے، اس سارے بحران کا مثبت پہلو یہ ہے کہ امپورٹ کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں، افراط زر کی شرح دس فیصد سے بھی کم ہونے کی توقع ہے، شرح سود 2.25فیصد کم ہونے سے ساڑھے چار سو ارب روپے کا فائدہ ہوا ہے، حکومت نے عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ عوام کو نہیں پہنچایا ہے، شرح نمو منفی میں جانے سے ٹیکس بیسڈ سکڑ جائے گا جس کی وجہ سے ریونیو میں کمی آئے گا، اس سال ایف بی آر کے ریونیوز مشکل سے چار ہزار ارب تک پہنچ سکیں گے، تیل کی قیمتیں کم ہونے سے مشرق وسطیٰ میں بیروزگاری بڑھنے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے بیرون ملک سے ترسیل زر میں کمی آسکتی ہے۔وفاقی وزیر برائے ایوی ایشن غلام سرور خان نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی شہریوں کو واپس لانے کیلئے فضائی آپریشن بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پہلی ترجیح وزٹ ویزے پر باہر جانے والے، دوسری ترجیح بیرون ملک یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے پاکستانی اور تیسری ترجیح دہری شہریت رکھنے والے پاکستانی ہوں گے، باہر سے آنے والے پاکستانیوں کی ٹیسٹنگ ہوگی اورا نہیں قرنطینہ میں رکھا جائے گا، جن لوگوں کا ٹیسٹ مثبت آیا انہیں اسپتال منتقل کردیا جائے گا۔ غلام سرور خان نے بتایا کہ پاکستانیوں کو لانے کیلئے 2اپریل سے 11اپریل تک 17کمرشل فلائٹس چلائی جائیں گی، پہلی دو فلائٹس کراچی اور لاہور سے مسافر لے کر ٹورنٹو جائیں گی، یہ چارٹر فلائٹس ہیں جو کینیڈین ایمبیسی نے ارینج کی ہے، ان فلائٹس میں پاکستانی نژاد کینیڈین نیشنل لوگ جائیں گے، ایک فلائٹ براہ راست واپس پاکستان آئے گی۔