نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے غریدہ فاروقی نے کہا کہ میں لوگوں کو کہتی رہی کہ گھروں میں بند رہیں، میں 4 ماہ، فروری، مارچ، اپریل، مئی گھر میں بند رہی اور چار مہینے گھر پہ ہی گزارے۔ ان دنوں میری اسلام آباد میں گرمی بہت پڑرہی تھی اور ہیٹ سٹروک کی وجہ سے میری بلیاں بیمارہوگئیں۔یہ واحد موقع تھا جب میں گھر سے نکلی، یہ عید کے بعد کی بات ہے۔ میں اپنی بلیوں کو جانوروں کے کلینک لیکر گئی لیکن وہاں بھی میں نے بہت احتیاط کی ، وہاں کسی چیز کو نہیں چھوا ۔ غریدہ فاروقی نے مزید بتایا کہ یکم جون کو مجھے کرونا کی علامات پیدا ہونا نظر آئیں جب مجھے خشک کھانسی اور گلے میں خراش پیدا ہوئی۔ تب میں محسوس ہوا کہ مجھے کرونا ٹیسٹ کروالینا چاہئے۔ میں نے ٹیسٹ کروایا تو پازیٹو نکلا غریدہ فاروقی کا مزید کہنا تھا کہ اگر میں چند گھنٹے باہر رہنے کی وجہ سے کرونا کا شکار ہوگئی ہوں تو ایسے لوگ بھی ہیں جو مسلسل گھر سے باہر رہ رہے ہیں۔ غریدہ فاروقی کے مطابق کرونا لاک ڈاؤن کے دوران بھی پھیل رہا تھا کیونکہ لاک ڈاؤن برائے نام تھا لیکن لاک ڈاؤن کے بعد تو بہت زیادہ پھیلا۔ لوگ بداحتیاطی بہت کررہے ہیں، خدارا! لوگ سمجھیں کرونا ڈرامہ نہیں ہے۔ غریدہ فاروقی نے مزید کہا کہ وہ اب صحتیاب ہورہی ہیں، وزیراعظم عمران خان بالکل ٹھیک کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں ہے، کرونا کو سیریس لینا ہے لیکن گھبرانا نہیں ہے۔