وفاقی وزير اطلاعات شبلی فراز نے يقين ظاہر کيا ہے کہ چينی بحران پر کميشن کی رپورٹ عيد سے پہلے آجائے گی۔ کہتے ہيں شہباز شريف نے ملک کو مشکل حالات ميں لاکھڑا کيا، اب انہيں جانے نہيں ديا جائے گا، اپوزیشن جماعتیں کرونا وائرس پر سیاست نہ کریں۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ حکومت اقتصادی سرگرمیوں اور کروناوائرس کیخلاف حفاظتی اقدامات میں توازن برقرار رکھ رہی ہے، ریل گاڑیوں کو کل سے دوبارہ چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے اور حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد ریلوے کے ڈویژنل صدر دفاتر کی ذمہ داری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقے کی سہولت کیلئے بھی صنعتی شعبے کو کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے تاہم صنعتکاروں کو کرونا وائرس کیخلاف حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا، صنعتوں کو عید کی چھٹیوں کے دوران بھی کام کرنے کی اجازت ہوگی۔ شبلی فراز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کروناوائرس کے حفاظتی آلات تیار کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور اضافی مصنوعات کو برآمد بھی کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ اگر عوام نے اس اذیت ناک تجربے سے گزرنے کے باوجود اپنے طور پر حفاظتی اقدامات کو اختیار نہ کیا تو پابندیاں دوبارہ نافذ کی جاسکتی ہیں۔ اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر نے حزب اختلاف کی جماعتوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ کرونا وائرس کے معاملے پر سیاست نہ کریں کیونکہ اس وباء کو شکست دینے کیلئے قومی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے شبلی فراز نے واضح کیا کہ چینی بحران پر کمیشن کی رپورٹ عید سے پہلے آجائے گی، لوگ کہتے تھے کمیشن نہیں بنے گا، وہ بن گیا، پھر لوگوں نے کہا کہ رپورٹ میڈیا پر نہیں آئے گی، ابتدائی رپورٹ بھی میڈیا پر آگئی، حتمی رپورٹ بھی میڈیا سے شیئر کریں گے۔ شہباز شریف کے الیکشن کے مطالبے پر ان کا کہنا تھا کہ احتساب سے بچنے کیلئے الیکشن کا ڈھونگ نہیں رچایا جاسکتا، شریف برادران احتساب سے بھاگ رہے ہيں۔