کورونا وائرس کے مریضوں کو بیماری سے بچانے کے لیے اگرچہ دنیا میں تاحال ویکسین تیار نہیں کی جا سکی اور نہ ہی اگلے 18 ماہ تک ویکسین دستیاب ہو پائے گی لیکن اس کے علاوہ تقریبا دنیا کے تمام ممالک مذکورہ بیماری کے نئے نئے علاج دریافت کر رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک کے ماہرین صحت نے پرانی دوائیوں اور پرانے طریقہ علاج میں ترمیم کرکے کورونا کے مؤثر علاج کے طریقے دریافت کرلیے ہیں، جن کے اچھے نتائج بھی آ رہے ہیں۔اگرچہ اس وقت پاکستان سے لے کر امریکا تک کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے پلازما یا اینٹی باڈیز تھراپی کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے، تاہم پاکستانی طبی ماہرین نے اسی طریقہ علاج سے ایک نیا طریقہ نکال لیا۔ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں واقع ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (ڈی یو ایچ ایس) کی طبی ماہرین کی ایک ٹیم نے کورونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں سے حاصل کیے جانے والے اینٹی باڈیز کو صاف کرکے ان سے ایک خاص قسم کے ذرات حاصل کرکے ان سے انٹرا وینیس امیونو گلوبیولن ( آئی وی آئی جی ) تیار کرلی۔