تازہ ترین

ڈاکٹرز نے کیسز میں اضافے کے بعد لاک ڈاؤن کو بے سود قرار دے دیا

ڈاکٹرز-نے-کیسز-میں-اضافے-کے-بعد-لاک-ڈاؤن-کو-بے-سود-قرار-دے-دیا

فیصل آباد: ڈاکٹر ایسوسی ایشنز کا ماننا ہے کہ جہاں ہر گھر میں کورونا وائرس کے علامات موجود ہیں، اس مرحلے پر اسمارٹ لاک ڈاؤن کا کوئی خاص نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) کے سرپرست ڈاکٹر معروف کا کہنا ہے کہ ’جب ہم رمضان میں لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے خلاف حکومت سے مطالبات کررہے تھے تو کسی نے بھی ہماری بات نہیں سنی تھی‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اب حکومت کورونا وائرس کی صورتحال بہتر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی کیونکہ فیصل آباد میں ان گنت افراد کورونا وائرس کے علامات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ ہم مریضوں کے ٹیسٹ اور علاج کر رہے ہیں اور سسٹم پر تمام ڈیٹا اپلوڈ کررہے ہیں ضلعی انتظامیہ متاثرہ علاقوں کو سیل کرنے کے لیے یہ ڈیٹا لے سکتی تھی‘۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مریضوں کو ڈھونڈنے اور منتخب علاقوں کو سیل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے سبب ڈاکٹر برادران اور عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے اور اب ’اسمارٹ‘ یا ’سلیکٹڈ‘ لاک ڈاؤن کا موثر انداز میں فائدہ نہیں ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ مریضوں کے تمام اعداد و شمار تک رسائی کے باوجود انفیکشن پر قابو پانے کے لیے منتخب علاقوں کو سیل کرنے نہیں گئی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لاہور انتظامیہ اعداد و شمار کی مدد سے منتخب علاقوں میں 'سمارٹ لاک ڈاؤن' لگانے جارہی ہے جبکہ فیصل آباد کی صورتحال بالکل مختلف ہے کیونکہ جن علاقوں سے مریض ہسپتال آرہے ہیں وہاں ایک بھی ٹیسٹنگ مہم شروع نہیں کی گئی ہے۔ ڈاکٹر معروف کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے کسی بھی عہدیدار نے کیسسز کو دیکھنے کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے وائی ڈی اے کے ساتھ بیٹھنے کی زحمت نہیں کی جو وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن فیصل آباد چیپٹر کے سیکریٹری ڈاکٹر محمد عرفان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ’غیر منحرف' پالیسیوں سے ڈاکٹروں اور عوام کے لیے پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ متعدد ڈاکٹرز بھی اس وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ وائی ڈی اے ڈی ایچ کیو ہسپتال کے صدر نعمان چودھری کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے پاس مریضوں کے نام، پتہ اور ان کے فون نمبر دستیاب تھے جو دوسروں کو بچانے کے لیے مخصوص علاقوں کو سیل کرنے کا انتخاب کرنے کے لیے استعمال ہوسکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے کچھ نہیں کیا گیا ہے، انہیں جتنی جلدی ہوسکے لاک ڈاؤن کی جانب جانا چاہیے کیونکہ یہی واحد حل ہے حالانکہ اب تقریبا ہر گھر میں بخار، گلے یا کھانسی کے مریض ہیں‘۔ وائی ڈی اے کے سیکریٹری ڈاکٹر عدنان شاکر کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن اب مشکل کام ہے کیونکہ انتظامیہ کو مریضوں کو گھروں میں آئی سولیٹ کرنا ہوگا اور اگر گھروں میں گنجائش کا فقدان ہے تو پھر انتظامیہ کو دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے مریضوں کو ہسپتالوں میں لے جانا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سمارٹ لاک ڈاؤن پر حکومت نے تاخیر کی ہے تاہم یہ ایک اچھا اقدام ہوگا‘۔ ڈپٹی کمشنر محمد علی سے ان سوالات کے ساتھ دو دن پہلے رابطہ کیا گیا تھا کہ کتنے علاقوں میں کورونا وائرس کے مریض ہیں، ایسے علاقوں میں مریضوں کی تعداد کیا ہے، کیا متاثرہ علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ ہے، تاہم بار بار رابطہ کیے جانے کے باوجود انہوں نے اب تک جواب نہیں دیا۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں