ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ کل ایک پروگرام میں میں نے کورونا وائرس کے حوالے سے پھیلائے جانے والی غلط اور سازشی تھیوریاں پھیلانے والے افراد کے حوالے سے اپنا نکتہ نظر بیان کیا تھا میں نے اس کلپ میں ہم” کا لفظ استعمال کیا، میں بھی اسی میں شمار ہوتی ہوں ڈاکٹر یاسمین راشد نے مزید کہا کہ میڈیا والوں نے بھی لوگوں کے انٹرویو لئے جو کہتے ہیں کہ کرونا ورونا کچھ نہیں ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ہم مسلمان ہیں ہمیں کرونا نہیں لگے گا، لوگوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت ڈرامہ کررہی ہے۔ میں نے کہا کہ لاہورئیے علیحدہ ہی مخلوق ہیں، آپ اعدادوشمار دیکھ لیں کہ 55 ہزار کیسز میں سے صرف 27 ہزار کیسز لاہور کے ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کا مزید کہنا تھا کہ پہلے دن سے لاہور والوں کو کہہ رہے ہیں کہ لاہور کرونا وبا کا گڑھ بن رہا ہے، آپ خدارا خیال رکھیں، سوشل ڈیسٹنسنگ رکھیں، پنجاب کی آبادی 11 کروڑ ہے جن میں سے صرف 27 ہزار کیسز ڈیڑھ کروڑ کی آبادی کے لاہور میں ہیں۔ جب اس طرح کی چیزیں سامنے آتی ہیں۔ میرا دل دکھتا ہے، مجھے اپنے شہر کا حال دیکھ کر تکلیف ہورہی ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ اگر لاہوریوں کا دل میری وجہ سے دکھا ہے تو میں معذرت کرلیتی ہوں، باقی ن لیگ والوں کا دل میری وجہ سے ہمیشہ ہی دکھا رہتا ہے، میں کیا کروں اس پہ