فلموں کی بات ہو تو ان کی مقبولیت میں جس چیز کا کردار بنیادی ہوتا ہے وہ اس کی بہترین کہانی یا پلاٹ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ڈائریکٹر کسی اچھی کہانی کے لیے مقبول ناولوں کا انتخاب کرتے ہیں اور اگر وہ کتاب لوگوں میں مقبول ہو تو اس کے ہٹ ہونے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔مگر نالوں پر بننے والی سب سے بہترین فلمیں کونسی ہیں ؟ اب اس فہرست کا تعین تو ہم نہیں کرسکتے اور نہ ہی سب کے نام دیئے جاسکتے ہیں مگر درج ذیل کچھ ایسی بہترین فلمیں ضرور دینے کی کوشش کی گئی ہے جو ناولوں پر مبنی ہیں اور کافی زیادہ پسند بھی کی گئیں۔آج کل دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کروڑوں افراد نئے نوول کورونا وائرس کی وبا کے باعث گھروں تک محدود ہیں، اس فرصت میں آپ ان فلموں کو دیکھ کر بھی وقت گزاری کرسکتے ہیں۔ دی لارڈ آف دی رنگز سیریز ڈائریکٹر پیٹر جیکسن کی یہ تین حصوں پر مشتمل فلم سیریز جے آر آر ٹالکن کے ناول دی لارڈ آف دی رنگز پر بنائی گئی جسے فلمی دنیا کا ایک بہت بڑا اور خطرناک منصوبہ سمجھا گیا تھا جس پر کروڑوں ڈالرز خرچ کیا گیا، یہ تینوں فلمیں 8 سال میں مکمل ہوئیں، ریلیز ہونے کے بعد اس کی کامیابی نے تاریخ رقم کی اور یہ سب سے زیادہ کمانے والی فلم سیریز میں سے ایک ہے۔ اس نے 17 آسکرز ایوارڈز بھی اپنے نام کیے جن میں سے اس سیریز کی آخری فلم دی ریٹرن آف دی کنگ نے 11 جیتے اور اس طرح بن حر اور ٹائیٹنک کے ساتھ سب سے زیادہ آسکر ایوارڈز جیتنے والی فلم بنی۔ ٹو کل اے موکنگ برڈ 1962 کی یہ فلم اسی نام سے شائع ہونے والے ایک ناول پر مبنی تھی جسے ہارپر لی نے تحریر کیا تھا، اس ناول اور فلم کی کہانی جنوبی امریکا میں مقیم چند بچوں کے گرد گھومتی ہے جن کے بچپن کی معصوممیت حالات زمانہ کی نظر ہو جاتی ہے، ان بچوں کے والد جو ایک وکیل ہیں ریپ کے ایک کیس کی پیروی کر تے ہیں جس میں ایک سیاہ فام معصوم شخص پر ایک سفید فام نوجوان لڑکی کے ریپ کا الزام ہوتا ہے۔ یہ بچے چھپ کر اس کیس کی پیروی دیکھتے ہیں اور جوں جوں کیس آگے بڑھتا ہے ان کے والد اور خود ان کے لیے مسائل سنگین ہوتے چلے جاتے ہیں، ہارٹن فوٹ کے بہترین اسکرین پلے اور رابرٹ ملی گن کی ہدایتکاری نے اس فلم کو کامیاب بنا نے میں اہم کردار ادا کیا۔