کراچی کے علاقے لياری کھڈا مارکیٹ لیاقت کالونی ميں 6 منزلہ رہائشی عمارت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق اور 12 افراد زخمی ہوگئے جبکہ ملبے تلے 50 سے زائد افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ عمارت گرنے کا واقعہ 7 جون کو رات ساڑھے 8 بجے لیاری بغدادی کے علاقے کھڈا مارکیٹ میمن سوسائٹی کھوکھر کچن والی گلی نمبر 2 میں پیش آیا۔ 6 منزلہ عمارت کے گرنے سے ساتھ میں موجود 5 منزلہ عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔ ریسکیو حکام کے مطابق 50 سے زائد مکینوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے جنہیں نکالنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ رات اندھیرا ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عينی شاہدين کا کہنا ہے کہ عمارت اتوار کو صبح سے ہل رہی تھی اور کچھ رہائشی عمارت چھوڑ چکے تھے مگر کئی خاندان عمارت کمزور ہونے کے باوجود رہائش پذير تھے۔ ریسکیو عملے کے مطابق ملبے کے نیچے سے ایک خاتون کی لاش نکال کر اسپتال منتقل کر دی ہے جبکہ 12 زخمیوں کو بھی ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی تکنیکی کمیٹی برائے خطرناک بلڈنگز (ٹی سی ڈی بی کمیٹی) کے سیکریٹری بنیش شبیر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ گرنے والی عمارت 400 سے 500 گز پر تعمیر تھی جو کہ 25 سے 30 سال پرانی تھی اور اسے 6 ماہ قبل مخدوش قرار دیا گیا تھا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان علی مہدی کاظمی نے بتایا کہ ایس بی سی اے نے 18 مارچ کو مکینوں کو انخلا کا نوٹس بھی بھیجا تھا جس میں 15 دن کے اندر عمارت خالی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ترجمان نے کہا کہ بجلی اور گیس کی سپلائی بھی ڈیڑھ ماہ سے منقطع تھی لیکن اسکے باوجود کرایہ دار ادھر رہائش پذیر تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی کو فوری طور پر حادثے کی جگہ پہنچنے کی ہدایت کردی ہے تاکہ امدادی کام شروع کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ امدادی کارروائیوں میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ واقعے پر میئر کراچی وسیم اختر کہتے ہیں کہ شہر میں 250 مخدوش عمارتیں موجود ہیں اور مخدوش عمارتوں کو خالی کرانا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس کی فہرست بھی صوبائی حکومت کے پاس ہے۔ واضح رہے کہ کراچی میں 6 ماہ کے دوران عمارت گرنا کا یہ تیسرا واقعہ ہے لیکن غیر قانونی تعمیرات کا کام روکا نہیں جا سکا۔