تازہ ترین

کرونا سے مزید 25 جان بحق, وائرس زیادہ پھیلا تو مساجد بند کرنا پڑیں گی : عمران خان

کرونا-سے-مزید-25-جان-بحق,-وائرس-زیادہ-پھیلا-تو-مساجد-بند-کرنا-پڑیں-گی-:-عمران-خان

وباسے مرنیوالوں کی مجموعی تعداد201،کل متاثرین 9565تک پہنچ گئے ،2073 صحت یاب،بلوچستان حکومت نے لاک ڈائون میں 5مئی تک توسیع کردی گھر پر عبادت کرنیکی کوشش کریں،ٹائیگر نہیں رضا کار فورس بنائی،پیسے نہیں دینگے ،کشمیریوں پر 8ماہ سے کرفیو مسلط، لاک ڈائون کے بعد دنیا تکالیف کا اندازہ لگا سکتی ہے :وزیراعظم اسلام آباد: پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 25 افراد جاں بحق جبکہ 1147نئے مریض سامنے ا ٓگئے جس سے جاں بحق ہونیوالوں کی مجموعی تعداد201 ہوگئی ،متاثرین کی تعداد بھی بڑھ کر9565تک پہنچ گئی۔ملک بھر میں مزید103افراد نے کورونا کو شکست دیدی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے اعدادو شمارکے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹے میں پنجاب میں نئے 534متاثرین سامنے آئے جبکہ 7افرا د جاں بحق ہوئے ،جس سے صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر4255ہوگئی جبکہ ہلاکتیں 49ہوگئیں،سندھ میں 515نئے مریض اور10 افراد جاں بحق ہوئے جس سے متاثرین کی کل تعداد3052ہوگئی،جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد بھی 66ہوگئی۔بلوچستان میں 33نئے متاثرین اور ایک شخص جاں بحق ہوگیا جس سے متاثرین کی تعداد 465جبکہ جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 6ہوگئی ۔خیبر پختونخوا میں 41نئے متاثرین اور 7 افراد جاں بحق ہوئے جس سے مریضوں کی تعداد1276 ہوگئی ،صوبے میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد بھی 74ہوگئی۔اسلام آباد میں 4نئے متاثرین سامنے آئے اس طرح مریضوں کی تعداد185ہوگئی ،دارالحکومت میں اب تک تین افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔گلگت بلتستان میں 18نئے مریض سامنے آئے جس سے متاثرین کی تعداد281ہوگئی ،جی بی میں تین افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔آزاد کشمیر میں 2نئے متاثرین سامنے آئے جس سے مریضوں کی تعداد51ہوگئی،کشمیر میں ابھی تک کورونا سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے اعدادو شمارکے مطابق ملک بھر میں گزشتہ روز 5347 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ، اب تک ملک میں کورونا کے کیے گئے ٹیسٹوں کی تعداد1لاکھ 11ہزار سے تجاوز کرگئی۔ادھراپنے سٹاف رپورٹر سے نے ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے حوالے سے بتایاکہ لاہور میں کوروناکے 658 مریض ہیں۔ لاہور سے سٹاف رپورٹر سے کے مطابق وائس چیئرمین پی ایچ اے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی،جس کے بعد انہوں نے خود کو آئسولیٹ کرلیا۔ادھربلوچستان میں لاک ڈاؤن میں 5 مئی تک توسیع کردی گئی ۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ بلوچستان میں عوامی مقامات پر 10یا 10سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی برقرار ہے ،نجی اور سرکاری مقامات پر ہر قسم کے اجتماعات پر بھی پابندی ہے ،اس کے علاوہ درباروں، درگاہوں سمیت تمام مقامات پر اجتماعات پر بھی پابندی برقرار ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وائرس پھیلا تو مجبوراً مساجد بند کرنی پڑیں گی۔ تمام صوبوں سے بات چیت کے بعد معاملات کوآگے بڑھارہے ہیں۔دنیا میں کہیں بھی غیرمعینہ مدت تک لاک ڈاؤن نہیں چل سکتا، کوشش کررہے ہیں کہ احساس پروگرام کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچیں۔مستحق لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کررہے ہیں۔ ان خیا لات کا اظہار انھوں نے کورونا اور قومی امور پراظہارخیال کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے سیمنٹ انڈسٹری اور پھرتعمیراتی شعبے کو کھولا ۔ جن ملکوں میں پانچ چھ سو لوگ روزانہ مرتے ہیں وہاں بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا گیاہے ، ہمارا چیلنج ترقی یافتہ ملکوں سے بڑا ہے ، پاکستان میں لوگوں کو بھوک سے بچانا ہے ۔ تمام دنیا اس وقت کورونا سے لڑرہی ہے اور امریکا میں 40 ہزار جبکہ اٹلی اور سپین میں 20، 20 ہزار افراد کورونا کے باعث انتقال کرگئے ہیں، پاکستان میں یہ شرح بہت کم ہے ۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے 192 افراد کا کورونا سے انتقال ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بات ہورہی ہے دنیا بھر کی مساجد بند ہوگئیں، پاکستان میں مساجد کیوں بند نہیں کی جارہیں، ہم آزاد قوم ہیں، مجھے بہت برا لگا جب میں نے دیکھا پولیس لوگوں کو ڈنڈے مار رہی ہے ، رمضان المبارک عبادت کا مہینہ ہے ، قوم عبادت کے لیے مساجد میں جانا چاہتی ہے ۔ ہم ان لوگوں کو زبردستی مساجد میں جانے سے نہیں روک سکتے ، آزاد معاشروں میں ایسا نہیں ہوتا، کورونا کی جنگ پورا ملک لڑ رہا ہے ، ہم نے علما سے ملاقاتیں کیں اور بہت طویل مشاورت کی، صدر عارف علوی نے علما سے شرائط پر بات کی، 20 نکات پر تمام علمائے کرام نے دستخط کیے ، مجھے پوری امید ہے قوم مساجد میں حکومتی ایس او پیز پر عمل کرے گی لیکن اگروائرس پھیلا تو مجبوراً مساجد بند کرنی پڑیں گی۔سب کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ عبادت گھر پر ہی کریں۔ کورونا وائرس کسی امیر یا غریب میں فرق نہیں کر یگا،قوم کو خود کورونا کیخلاف جنگ کے لیے بیدار ہونا ہوگا اور ملکر مقابلہ کرنا ہوگا۔ کسی کو بھی یہ نہیں پتہ ایک ماہ بعد کیا صورتحال ہوگی، ہماری کوشش ہے اپنے لوگوں کو بھوک سے بچائیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جن فیکٹریوں کو کھولنے کی اجازت ہے ، ان کو بھی طے کردہ ضابطہ کار پرعمل کرنا ہوگا۔ اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بیرون ملک پاکستانی ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستانی لیبر بے روزگار ہوگئی ہے ۔ ہمیں ان کا پوری طرح احساس ہے اور بیحد فکر مند ہیں ۔ان کی وطن واپسی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے جو فورس بنائی وہ ٹائیگر فورس نہیں رضاکار فورس ہے ، اس فورس کو پیسے نہیں دیئے جائیں گے ۔ یہ قوم کی خدمت کا جذبہ لے کر آئے ہیں، ان رضاکاروں کو پورٹل پر ڈالیں گے ،جو لوگ بھی راشن دینا چاہیں گے وہ اس پورٹل کی مدد سے راشن دے سکیں گے ۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ مشکل میں ہیں، آنے والے دنوں میں کوشش ہے کہ نچلے طبقے کی حفاظت کریں۔ دریں اثنا انہوں نے احساس راشن پورٹل کا افتتاح کیا اور اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستا نی قوم نے ہر مشکل کا مقابلہ استقامت اور ثابت قدمی سے کیا ہے ، مشکل کی ہر گھڑی میں قوم نے کمزور طبقوں کی دل کھول کر مدد کی ہے ، احساس راشن پورٹل مخیر حضرات کو مستحقین تک پہنچنے اور راشن کی تقسیم کے نظام کو مکمل طور پر شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیر اعظم عمران خان سے بیسٹ وے سیمنٹ کے ڈائریکٹر فنانس عرفان اے شیخ نے بھی ملاقات کی اور دو کروڑ پچاس لاکھ روپے کا چیک وزیر اعظم کورونا ریلیف فنڈ کے لیے پیش کیا ۔ اس رقم میں سے ایک کروڑ روپے بیسٹ وے فاؤنڈیشن کی جانب سے ، ایک کروڑ یونائیٹڈ بینک جبکہ پچاس لاکھ عرفان شیخ نے اپنے اور اپنے خاندان کی جانب سے پیش ریلیف فنڈ کے لیے عطیہ کیے ۔ وزیر اعظم عمران خان سے گورنر خیبر پختونخواہ شاہ فرمان اور وزیر اعلیٰ محمود خان نے بھی ملاقات کی جس میں خیبرپختونخوا میں کورونا کی صورتحال، روک تھام کے حوالے سے اقدامات، تعمیرات کے شعبے کے فروغ اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے حوالے سے تبادلہ خیال کیاگیا ۔ علاوہ ازیں و زیر اعظم عمران خان سے چیئرمین یوٹیلیٹی سٹورزکارپوریشن ذوالقرنین علی خان نے بھی ملاقات کی ، اس موقع پر چیئرمین نے وزیر اعظم کو یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی جانب سے شہریوں کو وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق سستے داموں اشیا کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ۔ قبل ازیں اپنے ٹویٹ میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی سیاسی و عسکری کرفیو گزشتہ 8 ماہ سے بغیر کسی طبی، مالی، مواصلاتی اور غذائی امداد کے جاری ہے ، اب اقوام عالم کشمیری عوام کی تکالیف کا اندازہ لگا سکتی ہیں جنہیں بدترین جبر کا سامنا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ نسل پرست نظریہ ہندوتوا کی پیروکار مودی سرکار نے اس بات کویقینی بنایا ہے کہ اس ناکہ بندی کے دوران اہل کشمیر بنیادی اشیائے ضروریہ سے بھی یکسر محروم رہیں۔ تمام تر طبی، مالی، مواصلاتی اور غذائی امداد کی فراہمی کے باوجود دنیا کے مختلف حصوں میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈاؤن کے دوران احتجاجی مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ غالباً اب اقوام عالم مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی تکالیف کا اندازہ لگا سکتی ہیں جنہیں بدترین جبر کا سامنا ہے ۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں