سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز کہتے ہیں کہ مالی حالات کم ہونے کے باوجود 1.2 کھرب کا اکنامک پیکیج دیا لیکن کرونا کے باعث کاروبار بند ہونا بہت سنجیدہ مسئلہ ہے۔ سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات اور سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کرونا صرف پاکستان نہیں بلکہ عالمی وبا ہے لیکن دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں کرونا کے اثرات کم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرونا مریضوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کرگئی اور اموات ہزار سے کم ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم ایک فلاحی مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں۔شبلی فراز نے اپوزیشن سے سوالوں پر جواب بھی مانگ لیے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اپوزیشں کے پاس کرونا کا کیا پلان ہے؟ اپوزیشن بتائے کیا ہم پورے ملک میں لاک ڈاؤن کرفیو لگا دیں؟ اجلاس بلا کر اپوزیشں لیڈر اجلاس میں آئے کیوں نہیں؟ سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ کل شہزاد اکبر نے بھی 10 سوال پوچھے جواب نہیں آئے۔ بتایا جائے کہ پارٹی فنڈز پرسنل اکاؤنٹس میں کیسے چلے گئے