کورونا وبا کے سامنے آنے کے بعد سب سے بڑا اور حل طلب مسئلہ اس کی ویکسین کی ایجاد ہے دنیا بھر میں متعدد کمپنیوں نے کوشش کی مگر ابھی تک کوئی کمپنی ایسی ویکسین ایجاد نہ کر سکی جس کو صحیح معنوں میں کورونا کی ویکسین کہا جا سکے۔ کورونا کی ویکسین ایجاد کرنے کے امیدواروں کی فہرست میں موجود چینی کمپنی نے ایک ویکسین ایجاد کی ہے جس کے کلینیکل ٹرائل کے 2مراحل مکمل ہو چکے ہیں اس ویکسین کو کلینیکل ٹرائل کے طور پر1120 لوگوں پر استعمال کیا گیا اور خوش قمستی سے دونوں مراحل میں کسی شخص کو کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہوا۔ چینی کمپنی کے مطابق 12 اپریل کو ہونان کے ووزی کاؤنٹی میں شروع ہونے والے اس تجربے میں رضا کارانہ طور پر کلینیکل ٹرائل میں حصہ لینے والے تمام افراد کے جسموں میں اینٹی باڈیز وائرس داخل کیے گئے اور تمام 1120 افراد کو 14، 21 اور 28 دنوں کے وقفوں سے دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور اس دوران ان کو2 بار ویکسین کی ڈوز دی گئی۔ اس کلینیکل ٹرائل میں شامل تمام رضاکارانہ شہریوں کی عمریں18 سے59 برس کے درمیان تھیں، کمپنی کے مطابق چین میں کیے جانے والے ابھی تک کے تجربات میں سے یہ کامیاب ترین رہا ہے۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق ویکسین کی حفاظت اور تاثیر نے کورونا کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں کامیابی پر اعدادوشمار اور محققین کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ دریں اثنا کمپنی نے اپنے غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ ملکر تیسرے مرحلے کے ٹرائل کے لیے کوششیں تیز کر دیں ہیں۔ چینی کمپنی کی طرف سے پہلے جانوروں پر بھی تجربے کیے گئے تھے