گزشتہ روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی اور دعویٰ کیا کہ برطانیہ میں وزیراعظم عمران خان کی 6 جائیدادیں ہیں، مرزا شہزاداکبر کی 5، زلفی بخاری کی برطانیہ میں 7 جائیدادیں ہیں جبکہ جہانگیرترین اور فردوس عاشق اعوان کی بھی ایک ایک جائیداد ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انہوں نے یہ پراپرٹیز 192.com نامی ویب سائٹ سے ڈھونڈی ہیں۔ جب اس ویب سائٹ سے ہم نے Imran Khan Niazi لکھ کر سرچ کیا تو عمران علی خان نیازی کے نام سے 6 پراپرٹیز سامنے آگئیں جبکہ وزیراعظم عمران خان کا مکمل نام عمران احمد خان نیازی ہے اور انکے نام میں علی نہیں آتا۔ جب عمران علی خان نیازی کے پروفائل کو کھنگالا گیا کہ کیا یہ وزیراعظم عمران خان ہی ہیں یا کوئی اور تو عمران علی خان نیازی کی تاریخ پیدائش مارچ 1983 اور عمران خان 36 برس نکلی جبکہ وزیراعظم عمران خان کی عمر 67 برس ہے۔ مزید انکشاف یہ ہوا کہ عمران علی خان نیازی برطانوی شہریت کا حامل ہے اور برطانیہ میں ہی مقیم ہے اور پیشے کے لحاظ سے ایک بزنس مین ہے اور کئی کمپنیوں میں بحیثیت ڈاکٹر خدمات سرانجام دے چکا ہے۔ تحریک انصاف نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اس دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی لندن میں کوئی پراپرٹی نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر شخص عدالت کے سامنے جوابدہ ہے۔ جب انہیں کہا گیا تو انہوں نے تمام منی ٹریل سپریم کورٹ میں دی اور صادق اور امین قرار پائے۔ ڈاکٹر ارسلان خالد نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ وزیراعظم عمران خان نے 1983 میں خریدے فلیٹ کی پوری منی ٹریل سپریم کورٹ میں جمع کروائی جس پر انہیں سپریم کورٹ نے صادق اور امین قرار دیا۔ جسٹس صاحب منی ٹریل دیے بغیر اپنا کیس لڑنا چاہتے ہیں تو انکی مرضی پر دوسروں پر بے جا الزامات نہ لگائیں