لاہور: بیوروکریسی کی چند کالی بھیڑیں سمجھتیں ہیں اگر گندا پانی پینے کی وجہ سے غر یبوں کے بچے مر رہے ہیں تو مر جائیں ، انکو کوئی خوف خدا نہیں ،میں انشا اللہ قیامت کے روز بیوروکریسی کے ان لوگوں کے گر یبان پکڑکر ان سے رکاوٹوں کا حساب لوں گا ،اب ہم لوگوں کے سامنے مزید بہانے نہیں بنا سکتے کہ کل پانی دیدیں گے یا پر سوں پانی دیدیں گے ، میرے صبر کا پیمانہ لبر یز ہو چکا ہے ۔ وہ منگل کے روز ڈی سی آفس لاہور میں سرور فائونڈیشن کے فلٹر یشن پلانٹ کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔انہوں نے کہاعوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کر نا میری زندگی کا مقصد ہے اور ہم صرف پنجاب ہی نہیں دیگر صوبوں میں بھی لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کر نے کیلئے کام کر رہے ہیں ،پنجاب میں حکومتی سطح پر ہم ڈیڑھ سال سے لوگوں کوپینے کا صاف پانی فراہم کر نے کیلئے پنجاب آب پاک اتھارٹی کا منصوبہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ، اب میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں بیورو کریسی کے ان لوگوں کیساتھ آئندہ چند روز میں میٹنگ کروں گا اگر یہ لوگ باز نہ آئے تو آئند ہ بدھ کو میں پر یس کانفر نس میں قوم کو بتائوں گا کہ بیوروکریسی کے کون سے لوگ پنجاب آب پاک اتھارٹی کی فائلز کو کہاں دبا کر رکھتے ہیں اور کیوں یہ لوگ غر یب کو پینے کا صاف پانی فراہم کر نے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔بیوروکریسی اپنا رویہ تبدیل نہیں کر رہی ہے اور پنجاب آب پاک اتھارٹی کے معاملات میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے ، ایک فائل کبھی کسی دفتر اور کبھی کسی دفتر میں جاتی ہے اور کبھی کوئی اور کبھی کوئی رکاوٹ کھڑی کر دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا میں اور پنجاب آب پاک اتھارٹی کا بورڈ وزیر اعظم عمران خان کو اس ساری صورتحال کے بارے میں آگاہ کرینگے ۔ذرائع کے مطابق 4 محکموں کی جانب سے آب پاک اتھارٹی کی فائلیں ڈیڑھ سال سے سرخ فیتے کی نذر ہیں۔ گورنر پنجاب پبلک ہیلتھ، فنانس، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور ریگولیشن ڈیپارٹمنٹس سے ناراض ہیں۔