اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے تناظر میں عوام کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے وزیراعظم کورونا ریلیف ٹائیگرز فورس بنانے اور خصوصی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کے خلاف جنگ قوم متحد ہو کر جیتے گی، صوبوں کا یکساں مؤقف ہے کہ سامان کی نقل و حمل کیلئے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کی مکمل اجازت ہو گی جبکہ مسافر بردار گاڑیوں پر پابندی برقرار رہے گی۔31 مارچ سے ٹائیگرز فورس کے لئے نوجوانوں کی رجسٹریشن شروع کر دی جائے گی ، یہ فورس گھروں میں راشن پہنچائے گی ،سامان لانے ،لیجانے والی گاڑیاں نہیں روکی جائینگی ، مستحقین کو 12ہزارروپے یکمشت ملیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر کوئی حکومت اکیلے قابو نہیں پا سکتی، یہ جنگ قوم متحد ہو کر جیتے گی۔ انہوں نے کہا کہ صرف چین میں مکمل لاک ڈاؤن کامیاب رہا، اس کی وجہ منظم انفراسٹرکچر کا ہونا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں منظم انفراسٹرکچر اور وسائل کی کمی کے باعث مکمل لاک ڈاؤن فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ کے ملک کے غریب اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں کے لئے مزید مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی صورتحال سے کھانے پینے کی اشیاء کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ کے خدشہ کے پیش نظر سامان کی نقل و حمل کے لئے مال بردار گاڑیوں کو مکمل اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم مسافر بردار گاڑیوں کے چلنے پر پابندی عائد رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور اب آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ چلنے کی اجازت ہو گی۔ اسی طرح کھانے پینے کی اشیاء کی صنعت بھی کام کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر اللہ کا بڑا کرم ہے ، کورونا وائرس سے متاثرہ دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں حالات بہتر ہیں تاہم اگلے دو ہفتوں میں صورتحال کیا ہوتی ہے اس کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا، اس لئے ہم نے اپنی پوری تیاری رکھنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طبی آلات و سامان کی دستیابی یقینی بنائی جا رہی ہے ، کافی حد تک سامان پہنچ رہا ہے جبکہ مزید انتظامات بھی کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کے حل کے لئے نوجوان رضا کاروں پر مشتمل کورونا ریلیف ٹائیگر فورس بنانے کا فیصلہ کیا گیاہے ، اس فورس کیلئے وزیراعظم آفس کے سٹیزن پورٹل کے ذریعے نوجوانوں کی رجسٹریشن کی جائے گی اور اس عمل کا باقاعدہ آغاز 31 مارچ سے ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان ہمارے ملک کی طاقت ہیں اور اس جنگ میں ان کی ضرورت ہے ۔ کورونا ریلیف ٹائیگر فورس میں شامل نوجوان ایمرجنسی میں ضرورت مند لوگوں کو ان کے گھروں میں راشن پہنچانے کا فریضہ انجام دیں گے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ ہفتے وزیراعظم ریلیف فنڈ بھی قائم کیا جائے گا جس میں مخیر حضرات اپنے فنڈز اور عطیات جمع کرا سکیں گے ۔ اس فنڈ سے مستحقین کی مدد کی جائے گی جبکہ احساس پروگرام کے تحت براہ راست رقوم کی فراہمی بھی جاری رکھی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں خیرات کرنے کے حوالے سے بے مثال جذبہ موجود ہے ، ہم پہلی مرتبہ اس کام کو منظم طریقے سے انجام دیں گے ، اس مقصد کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے منظم ڈیٹا مرتب کیا جائے گاجس سے رقوم کی مناسب تقسیم اور ضرورت کے مطابق استعمال کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ بحران سے پوری دنیا میں تجارت متاثر ہوئی ہے ، ہماری برآمدات جو بہت دیر کے بعد بڑھ رہی تھیں ان میں بھی کمی آئی ہے جبکہ ترسیلات زر متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر اور کرنسی کی قدرپر بھی دباؤ بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں آسانی کے لئے آئندہ ہفتے سٹیٹ بینک میں ایک خصوصی اکاؤنٹ کھولا جائے گا، ہم میڈیا کی آزادی کے ساتھ کھڑے رہیں گے ۔سمندر پار پاکستانیز اس اکاؤنٹ میں ڈالر بھجوا سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر درست فیصلے کرنے کی اشد ضرورت ہے اور آج گڈ زٹرانسپورٹ کی اجازت دینے کا فیصلہ اسی سلسلے کی کڑی ہے ، اب اشیائے ضروریہ کی قلت یا قیمتیں بڑھنے کا امکان نہیں، اس لئے عوام گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ جمہوریت میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہوتا ہے ، تعمیری تنقید حکومتوں کے لئے فائدہ مند ہوتی ہے تاہم بدنیتی پر مبنی تنقید کو لوگ پہچان لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم میڈیا کی آزادی کے ساتھ کھڑے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا ریلیف ٹائیگر فورس اور آئی ٹی کی مدد سے پورے ملک کی آبادی کی میپنگ ہو سکے گی۔ اس بحران سے نمٹنے کے بعد ہماری قوم مزید مضبوط بن کر ابھرے گی اور یہ ڈیٹا بیس مستقبل کی منصوبہ بندی میں بہت کار آمد ثابت ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ لوگوں کے لئے مشکل حالات ہیں، یہ نئی صورتحال ہے اور لوگ گھبراہٹ کا شکار ہیں اس لئے ان کے ساتھ زیادہ سختی نہیں ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت مستحقین کو چار ماہ کی اکٹھی رقم دی جائے گی جبکہ نئے فنڈ اور مزید اقدامات سے یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خیراتی پروگرام بن جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ بیرون ملک سے وطن واپسی کے خواہشمند پاکستانیوں کو مکمل سکریننگ کے بعد آنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس حوالے سے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر پیرا میڈیکل سٹاف اس جہاد میں سب سے آگے ہیں، ہمیں ان کی ذاتی حفاظت کا مکمل احساس ہے ، ان کو تمام ضروری حفاظتی سامان فراہم کیا جا رہا ہے ، اس کے علاوہ ان کو ہیلتھ رسک بونس بھی دیا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کو سب سے زیادہ نقصان طبقاتی نظام نے پہنچایا ہے جہاں امیر اور طاقتور طبقہ قوم کا پیسہ لوٹ کر بھی آزاد ہے ، تیس تیس سال حکومت میں رہنے والے اپنا علاج قوم کے پیسے پر بیرون ملک کرواتے رہے لیکن نظام ٹھیک نہیں کیا، میرا ان کے ساتھ سب سے بڑا اختلاف یہ ہے کہ ظلم کا نظام نہیں چل سکتا، ملک کے غریب عوام کو مدد کی ضرورت ہے ، اس کیلئے ہم نے ہیلتھ انشورنس کے علاوہ انصاف کے حصول میں انہیں قانونی معاونت فراہم کرنے کا پروگرام بھی بنایا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا ہے آج سے ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کھل جائے گی۔ کورونا وائرس کے باعث ملک میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت نہیں ہونی چاہیے ، کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہوئی تو افراتفری ہوسکتی ہے اس لیے رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی مال بردار گاڑی کو نہیں روکا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکس سے حاصل ہونے والی کُل آمدنی 45 ارب ڈالر ہے اور امریکا نے صرف ریلیف پیکیج 2 ہزار ارب ڈالر کا دیا ہے ، اس کے باوجود وہاں وفاق کچھ کر رہا ہے اور ریاستیں کچھ کر رہی ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال اتنی آسان نہیں ہے ، کورونا وائرس کی وبا سب کیلئے نئی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں بھی کورونا وائرس آیا جو مختلف ردعمل آنا شروع ہوئے ، صوبوں پر دباؤ بڑھا اور انہوں نے اس کے مطابق اقدامات اٹھائے لیکن بظاہر ایسا تاثر ملا کہ حکومت کو سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہورہا ہے ، درحقیقت ایسا نہیں تھا، پاکستان کو ایسی صورتحال کا تجربہ نہیں تھا۔عمران خان نے کہا کہ جب ہم لاک ڈاؤن کی بات کرتے ہیں تو ہمیں بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہیے کیونکہ ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں اس کا ردعمل اور اثرات آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 'مجھے خدشہ تھا کہ اگر ہم لاک ڈاؤن کے سیدھے پانچویں گیئر میں چلے گئے تو غریب طبقے اور دیہاڑی دار مزدور کے لیے بہت مشکلات پیدا ہوں گی اس لیے میرا خیال تھا کہ جب تک اس طبقے کے لیے کوئی سٹرکچر نہیں بنتا ہمیں آہستہ آہستہ اقدامات اٹھانے چاہئیں۔