کراچی : لاہور لائیکورٹ نے پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزا د ینے والی خصوصی عدالت کی تشکیل غیرآئینی قراردے دی ہے اس حوالے سے خصوصی نشریات میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کاروں اور قانون دانوں نے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے خصوصی کورٹ کی تشکیل پر فیصلہ دیا ہے سزا پر نہیں۔ وفاقی حکومت چاہتی تو کیس واپس لے سکتی تھی لیکن ان کا موقف ہے کہ عدالت کے ذریعے فیصلہ ہو،لاہورہائیکورٹ نے جب خصوصی عدالت کی تشکیل کو ہی غیر آئینی قراردے دیا تو اس کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں رہی اور ناہی ٹرائل کی ، خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کیخلاف سیاہ ترین فیصلہ دیا تھا ایک شخص جو کیس میں فریق نہیں ،جسے سنانہیں گیا اس کیخلاف فیصلہ آگیا، پوری ججمنٹ پڑھ کر ہی فیصلے کی اصل وجہ معلوم ہوسکے گی۔خصوصی نشریات میں مظہر عباس ،منیب فاروق ،عرفان قادر اور اشتر اوصاف نے اظہار خیال کیا۔سینئر تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ کیس میں کابینہ سے اجازت نہیں لی گئی تھی اس لئے پرویز مشرف کیخلاف ٹرائل نہیں بنتا ۔فیصلے کی اہم بات یہ ہے کہ جنہوں نے درخواست دی یعنی وفاقی حکومت اور پرویز مشرف کے وکیل دونوں فریق ایک ہی صفحے پر تھے ۔ اگر وفاقی حکومت کا موٴقف ہے کہ فیصلہ درست نہیں کیا گیا تو عدالت کے پاس محدود آپشنزرہ جاتے ہیں اس لئے لاہورہائی کورٹ کے فیصلے سے کوئی تعجب نہیں ہوا ۔دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی اپیل پر کیا فیصلہ سامنے آتا ہے کیوں کہ لاہور ہائیکورٹ نے خصوصی کورٹ کی تشکیل پر فیصلہ دیا ہے سزا پر نہیں لیکن لگتا یہی ہے کہ سزا ختم ہوجائیگی اور مقدمہ اختتام کو پہنچے گا ۔فیصلے پرپرویز مشرف کے مخالفین کہیں گے کہ جب پرویز مشرف کی بات آتی ہے تو ایسا ہی ہوتاہے۔پرویزمشرف کا ٹرائل نہیں ہوناتھا ۔وفاقی حکومت چاہتی تو کیس واپس لے سکتی تھی لیکن ان کا موقف ہے کہ عدالت کے ذریعے فیصلہ ہو ۔البتہ جب وفاقی حکومت ہی پرویز مشرف کو بچائے گی تو ان کیخلاف فیصلہ کیسے آسکتا ہے ۔موجودہ وزیرقانون ،اٹارنی جنرل سمیت متعدد کابینہ ارکان بھی مشرف کی کابینہ کا حصہ رہے ہیں اسی لئے لگتا یہی ہے کہ سزا کافیصلہ بھی کالعدم قراردے دیا جائیگا ۔ پرویز مشرف کی وطن واپسی بہت مشکل ہے ان کیخلاف 3نومبر کا واحد مقدمہ نہیں ہے ،لال مسجد اور اکبر بگٹی کا مقدمہ اس سے زیادہ سنگین ہے ۔ پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتیں بھی ان کیخلاف ہیں اور ان کی اپنی جماعت بھی متحرک نہیں اس لئے وہ وطن واپس نہیں آئیں گے البتہ ان کی صحت بھی اجازت نہیں دیتی کہ وہ پاکستان واپس آئیں ۔جب پرویزمشرف کو سزا ہوئی تو آرمی کاردعمل بھی واضح تھا ،جو ایک ریلیف انہیں ملنا تھا وہ مل گیا ۔اگر وہ واپس آئے تو دیگر کیسز چلیں گے اور نہیں چلائے گئے تو یہ نقطہ اٹھا یا جائیگا کہ سیاستدانوں کیخلاف تو کیسز چلائے جاتے ہیں لیکن اگر کسی فوجی آمرکا کیس آتا ہے تو معاملات دوسرے انداز میں دیکھے جاتے ہیں ۔وفاقی حکومت عملاً تقریباً کیس واپس لے چکی ہے۔