گھر گھر جا کر قطرے پلائے جا سکتے ہیں تو راشن کیو ں نہیں پہنچ سکتا ، شہریوں کی گفتگو پینسرہ : کورونا وائرس پوری دنیا میں پھیل چکا مگر پاکستان میں کورونا سے زیادہ لوگ غربت اور بھوک سے مرتے دکھائی دے رہے ہیں ایک ہفتے کی صورتحال میں لوگوں کے گھروں میں نوبت فاقوں تک آن پہنچی ہے یہ صورتحال برقرار رہی تو عوام کو روکنا مشکل ہو جائیگا بھوک اور غربت کا خوف کورونا وائرس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے جب گھروں میں بچے بھوک اور پیاس سے مرتے دکھائی دینگے تو لوگ لاک ڈائون توڑتے ہوئے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو جائینگے ۔ ان خیالات کا اظہار سدھار کے شہریوں نے دنیا سروے میں بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ شہریوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تمام ریلیف پیکیج لالی پاپ کے سوا کچھ نہیں ،اتنے دنوں میں حکومت کچھ نہیں کر سکتی آئندہ کیا کرے گی ،اگر گھر گھر جا کر قطرے پلائے جا سکتے ہیں تو گھر گھر غریب کو راشن کیوں نہیں دیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے لاکھوں اساتذہ گھروں میں موجود ہیں جبکہ پوسٹ آفس و واپڈا اہلکار وں سے بھی سروے اور راشن پہنچانے کا کام لیا جا سکتا ہے حکومت کچھ کرنا ہی نہیں چاہتی ہے ۔