کورونا وائرس کی وجہ سے عام طور پر اکثر لوگوں کی شادیاں ملتوی ہوئیں اور اگر کسی کی شادی ہوئی تو پھر ولیمے کی تقریب ملتوی ہوئی جب کہ اسی طرح کورونا کی وجہ سے متاثر ہونے والے ایک جوڑے نے شادی کے بعد اگلے سال ولیمہ کیا اور اس ولیمے کی انوکھی بات یہ تھی کہ اس میں ان کا بچہ بھی اپنے والدین کے ہمراہ ولیمے میں شامل ہوا۔ گزشتہ برس 13 مارچ 2020کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے ریان شیخ اور انمول کا ولیمہ بھی کورونا کے پیش نظر لاک ڈاؤن کی نذر ہوگیا۔ حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے ریان شیخ نے جیو نیوز کو بتایا کہ گزشتہ برس ان کی شادی 13 مارچ جب کہ ولیمہ 14 مارچ کو طے پایا تھا تاہم شادی کے اگلے روز ہی حکومت کی جانب سے کورونا کے باعث شادیوں سمیت آؤٹ ڈور سرگرمیوں پر پابندی لگادی گئی۔ ریان شیخ نے کہا کہ یہ ہمارے لیے ایک نئی پیش رفت تھی جس کے باعث ہم توقع کررہے تھے کہ کچھ روز بعد لاک ڈاؤن ختم ہوجائے گا اور پھر ہمارے ولیمے کا انعقاد کیا جائے گا لیکن توقع کے برعکس لاک ڈاؤن رمضان اور عید کے بعد تک جاری رہا۔ ریان کا کہنا تھا کہ ہمارے کئی رشتے دار ایسے بھی ہیں جنہیں سعودیہ اور دیگر ممالک سے آنے کے بعد ولیمے میں شرکت کرنا تھی لیکن خاندان نے فیصلہ کیا کہ ولیمے کی تقریب کو کچھ روز تک ملتوی کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس جب ستمبر اور اکتوبر کے دوران لاک ڈاؤن ختم ہوا تو ان کی اہلیہ امید سے تھی اوروہ اس حالت میں نہیں تھیں کہ اپنے ولیمے کی تقریب میں شرکت کرسکیں لہٰذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ ولیمے کی تقریب کا انعقاد بچے کی پیدائش کے بعد کیا جائے۔ ریان کے مطابق ان کے بچے کی پیدائش 9 جنوری 2021 کو ہوئی اور ان کے خاندان کی جانب سے 23 مارچ 2021کو یوم پاکستان کے روز ولیمے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ بچے سمیت ولیمے میں انٹری دینے کے حوالے سے ریان کا کہنا تھا کہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ بیٹا ہماری انٹری کے وقت دادا دادی کے پاس ہوگا لیکن جب میں اور انمول ہال میں داخل ہوئے تو بچے نے رونا شروع کردیا جس کے باعث انمول کو بچے کو گود میں لے کر ولیمے میں انٹری دینا پڑی۔