تازہ ترین

CHE کا عملہ تمام ہوائی، بحری اور بری مقامات پر تعینات

CHE-کا-عملہ-تمام-ہوائی،-بحری-اور-بری-مقامات-پر-تعینات

اسلام آباد : ایران سے واپس آنے والے زائرین کو قرنطینہ کرنا وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز، ضوابط اور ہم آہنگی کے ذریعے وفاقی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور یہ جانچنا کہ آیا یہ زائرین کووڈ 19 سے متاثر ہیں کسی بھی صوبائی انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں۔ آئین کی وفاقی قانون سازی کی فہرست (ایف ایل ایل) کے حصہ اول کے فورتھ شیڈول کی انٹری نمبر 19 میں قرنطینہ کے موضوع کا ذکر ہے۔ آرٹیکل 142 کے مطابق پارلیمان کو ایف ایل ایل میں کسی بھی معاملے کے حوالے سے قوانین بنانے کے خصوصی اختیارات ہوں گے۔ 1973 کے رولز آف بزنس کے مطابق وزارت صحت کے کنٹرول کے تحت سینٹرل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ (سی ایچ ای) نے اپنا عملہ تمام ہوائی، بحری اور بری داخلی اور خارجی مقامات پر تعینات کردیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ متعدی مرض سے متاثر کچھ بھی پاکستان میں داخل نہ ہوسکے۔ سی ایچ ای کا مشن انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشنز (2005) کے موثر اور جامع نفاذ کے ساتھ عالمی اثر کی بیماریوں کے بین الاقوامی پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ اس کے کام کرنے کی صلاحیت سے قطع نظر سی ایچ ای کا اصل کام کووڈ 19 سے متاثر مشتبہ افراد کی تمام داخلی و خارجی مقامات پر اسکریننگ اور آزمائش کرنا ہے تاکہ تفتان کے بجائے تمام طبی سہولیات سے لیس مناسب جگہ پر ان کو قرنطینہ کرنا کو یقینی بنایا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سی ایچ ای کی اصل ذمہ داری یہ یقینی بنانا ہے کہ یران سے آنے والے تمام زائرین کو قرنطینہ کیا جائے اور مناسب جگہ پر ٹھیک سے جانچا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ تفتان میں قرنطینہ مرکز بنانے کیلئے بلوچستان حکومت پر بوجھ ڈالنا غیرسنجیدہ ہے۔ تفتان بلوچستان میں ایران کے ساتھ ایک چھوٹا ٹرانزٹ بارڈر ہے جو کوئٹہ کے جنوب مغرب میں 630 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایک پسماندہ علاقہ ہے اور اس میں چند ہزار افراد کی میزبانی کرنے کیلئے بنیادی انفرا اسٹرکچر تک کی کمی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اچھا ہوجاتا اگر قرنطینہ مراکز بڑے شہروں سے نزدیک تیار کردئیے جاتے جہاں متاثرہ افراد کو با آسانی طبی سہولتیں فراہم کرنا ممکن ہوتا۔

زیادہ پڑھی جانےوالی خبریں